ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل: سماج کی خاموشی ہی شرپسندوں کو جنم دیتی ہے :ادب میں انسانی فکریں کے موضوع پر کنڑا میں سیمنار کا انعقاد

بھٹکل: سماج کی خاموشی ہی شرپسندوں کو جنم دیتی ہے :ادب میں انسانی فکریں کے موضوع پر کنڑا میں سیمنار کا انعقاد

Tue, 18 Oct 2016 21:20:22    S.O. News Service

بھٹکل :18/اکتوبر(ایس او نیوز) آج ہم مرئی و غیر مرئی تعاون کے ساتھ پرورش پانے والے تشویشناک زمانے سے گزررہے ہیں۔ باہمی ربط پیدا کرنے ، باقی رکھنے کے سلسلے میں انسانیت کی تڑپ کو تلاش کرکے نافذکرنے کی صورتحال میں جی رہے ہیں، سانس اکھڑنے والا ماحول ہی بھلائی کی امید جگاتا ہے، یہ بات روشن خیال مفکر، پستک پرادھیکار کے صدر ڈاکٹر بنجگیرے جئے پرکاش نے کہی۔

موصوف کرناٹکا ساہتیہ اکیڈمی بنگلورو، کاویاشری پرکاشن بھٹکل اور سید ضمیر اللہ شریف ساہتیہ پرتشتٹھان بھٹکل کے اشتراک سے شری گروسدھیندرا کالج کے ہال میں منعقدہ ’’جدیدکنڑا ادب میں انسانی فکریں ‘‘ موضوع پر منعقد ہوئے سمینار میں وہ خطاب کررہے تھے۔ جئے پرکاش نے کہا کہ ادیب کو ادب ہی دھرم ہوتاہے ، مظلوموں ،لاچاروں کی مدد اور جن کی آواز نہیں ہے ان کی آواز بننے والے ادب دھرم پر انحصار کیا جائے۔ روشن خیالی اور جدت پسندی کو ملحد انہ بتاکر ایک  وہم پھیلایا جارہاہے، باہمی رابطہ کو انکار کرنا خطرناک معاملہ ہے ، اسی لئے ان زہریلے خیالات سے باہر آکر نئے سرے سے فکر  پید اکرنا اور فکر کرنا ہی انسانیت کی خصوصیت ہونے کی بات کہی۔ قدیمت پر غوروفکر اور اس کا تجزیہ ہی جدیدروپ میں کتاب کی شکل میں باہر آتاہے۔ اعلیٰ ادیب کی گہری سنجیدگی بعض دفعہ بے عقلی کی طرف لے جاتی ہے ، اس لئے ہمیں اپنا تجزیہ اور احتساب کرنا ضروری ہے۔ تب کہیں جاکر اس میں دکھ درد، خوشی ومسرت دونوں کو پیش کرنےکی قوت پیدا ہوتی ہے، جس کی بہترین مثال کوئمپو ہے۔ دھرم، ذات پات سے پاک ادبی میدان کبھی بھی ناکام نہیں ہوتا۔ معاصرانہ حالات کی عکاسی کرنے والا ہی حقیقی ادیب ہوتا ہے۔ شرپسندوں کے پیدا ہونے میں سماج کی خاموش حمایت بھی اہم وجہ ہونے کی بات کہی۔ حالیہ دنوں میں دلت، مزاحمتی  ادیب  ریلے کی مانند آرہے ہیں، انہیں فکر دے کر زمین زرخیز بنانے کا کام کرنے کی بات کہی۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے بزرگ ادیب کالے گوڈا ناگوار نے کہاکہ تمام انسان ایک ہی خاندان کے ہونے کا عام تصور بھی غائب ہے ، بھارت میں جرم کئے بغیر مسلمان مجرم بنائے جارہے ہیں، پاکستان میں جرم نہ کرنے والے ہندو وں کو مجرموں کی طرح دیکھاجارہاہے، انہوں نے عالمی انسانیت کا تصور پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہم اس انتظارمیں ہیں کہ بغیر پاسپورٹ کے ساری دنیا گھومیں۔ بزرگ شاعر بی اے سندی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انسان کی کم ظرفی کو ادب روکتا ہے اور عالمی انسان کے لئے راہ دیتاہے۔شمبھو ہیگڈے نے ڈاکٹر ضمیر اللہ شریف کی نئی تصنیف ’’ غزل اور نظمیں ‘‘ ۔ شری دھر شیٹھ اور پروفیسر آرایس نایک کی ’’ ساہتیہ رسدیوگے ‘‘ نامی تصنیفات کا اجراء کرتے ہوئے ان کاتعارف پیش کیا۔ انجمن ڈگری کالج بھٹکل کے شعبہ کنڑا کے صدر پروفیسر آر ایس نایک ، ادیب ڈاکٹر سریش نائک، کنڑا ساہتیہ پریشد کمٹہ کے صدر ڈاکٹر شری دھر گنپتی ، مرڈیشور کالج کے ڈاکٹر نارائن مدھیستا ، ڈاکٹر ضمیر اللہ شریف پرتشتٹھان کے صدر پی آر نائک، ادیب سریش این نائک نے مختلف موضوعات پر مقالہ جات پیش کئے ۔ ڈائس پر کرناٹکا ساہتیہ اکیڈمی کے ممبر دھرنیندر کورکوری ، ضلع کنڑا ساہتیہ پریشد کے صدر اروند کرکی کوڑی ، ڈاکٹر سید ضمیر اللہ شریف پرتشتٹھان کے ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر وی جی پجار ، ڈاکٹر گنگا ریڈی ، کالج پرنسپال ناگیش بھٹ وغیرہ موجو دتھے۔ ڈاکٹر ضمیر اللہ شریف نے استقبال کیا۔ پی آر نائک نے شکریہ اداکیا۔ شری دھر شیٹھ نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔ شامبھوی اور ساتھیوں نے پرارتھنا کی ۔

دوپہر میں منعقد ہوئے اختتامی اجلاس کی صدارت کرناٹکا ساہتیہ اکیڈمی کے ممبر دھرنینیدر کورکوری نے کی۔ بزرگ ادیب اور موظف ضلع منصف ٹی ناگپا ، ڈاکٹر آر وی صراف مہمان خصوصی کے طورپر موجود تھے۔


Share: